Urdu Vowels – حروفِ علت

معنی و مفاہیم؛

حروف وہ کلمات ہیں جو نہ تو کسی کا نام ہوں اور نہ کسی مصدر سے بنے ہوں۔بلکہ دوسرے کلمات سے مل کر معنی دیں۔حروف کے بغیر اسم اور فعل بے کار ہیں ۔ان دونوں کے درمیان ربط حروف پیدا کرتے ہیں۔حروف کے معنی جگہ بدلتے رہنا کے بھی ہیں۔علت لفظ علالت سے ہے۔ جس کے معنی وجہ بیان کرنا کے ہیں۔حروفِ علت سے مراد ایسے کلمات ہیں جن سے کسی کام کا سبب بیان کیا جائے۔ بعض محققین کے مطابق حروفِ علت بیمار حروف کو کہا جاتا ہے۔کیونکہ ان حروف کی ادائیگی آسان ہوتی ہے۔ اور ایک بیمار انسان حالتِ بیماری میں بغیر کسی رکاوٹ کے یہ حروف ادا کر سکتا ہے ۔ اس لیے بھی ان حروف کو حروفِ علت کہا جاتا ہے۔بنیادی طور پر حروفِ علت تین ہیں۔ الف۔ و۔ ی وغیرہ۔ اردو گرائمر میں یہ کلمات کچھ اس طرح ہیں۔اس لیے۔ بنا بریں۔ پس۔ تاکہ۔ سو۔ کہ۔کیونکہ اور لہذا وغیرہ۔ بعض ناقدین نے حرکات کو بھی حروفِ علت سے تعبیر کیا ہے۔

حروفِ علت کی وضاحت؛

بنیادی طور پر حروفِ علت تین ہیں الف۔ واو۔ ی۔اس کے علاوہ زبر۔ زیر اور پیش بھی ان حروف کی آدائیگی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ ایسے کلمات ہوتے ہیں جن کو حلق بغیر کسی رکاوٹ کے ادا کرتا ہے ۔

الف؛

حروفِ تہجی میں الف کا نمبر ایک ہے اور ابجد کے حوالے سے دیکھا جائے تو بھی اس کا عدد ایک ہے۔یہ عربی کی وساطت سے اردو زبان میں آیا ہے۔ اس کی دو اقسام ہیں۔ الف مقصورہ اور الف ممدودہ۔ الف مقصررہ سادہ الف کو کہا جاتا ہے۔ بجکہ الف ممدودہ سے مراد مد والا الف ہے۔ اور اس الف کو تقطیع کے دوران دو سادہ الف کے برابر تسلیم کیا جاتا ہے۔یہ حروفِ علت کا پہلا حرف ہے جس کو بغیر کسی رکاوٹ کے ادا کیا جا سکتا ہے۔

واو؛

واو حروفِ علت کا ایک اہم رکن ہے علم الاعداد میں اس کا عدد چھ ہے۔اس کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔جن میں واو معروف۔ واو مجہول۔ واو عطفی اور واو معدولہ شامل ہیں۔معروف خوب کھل کر پڑھی جانے والی واو ہے جیسے خلوص۔خوب۔ نور وغیرہ اسی طرح مجہول ایسی واو ہے جسے کھول کر نہیں پڑھا جاتا مثلاً زور۔ شور۔ اور وغیرہ واو عطفی ایسی واو ہے جو مفرد کلموں کو ملانے میں مدد دے جیسے جوش و خروش ۔ خوش و خرم وغیرہ واو اگر متحرک یہ ہو اس کے بعد ۔ال۔ کے ساتھ کوئی قمری حرف آئے تو و کی آواز نہیں نکلتی مثلاً ابوالکلام۔ ابو الہول وغیرہ۔

ی؛

ی حروفِ علت میں شمار کی جاتی ہے اس کی تین اہم اقسام ہیں۔یائے معروف۔ یائے مجہول۔ یائے معدولہ۔ یائے معروف ایسی آواز ہے جو کھل کر پڑھی جائے جیسے فقیر۔ قریب وغیرہ۔ یائے مجہول ایسی ی ہے جسے کھول کر پڑھا نہ جائے مثلاً دلیر۔ شیر وغیرہ اور یائے معدولہ ایسی ی ہے جسے بلکل نہیں پڑھا جاتاجیسے فی الجملہ۔ فی البدیہہ وغیرہ۔

Copyright © 2016 - 2018 Explainry.com | All Rights Reserved