مرثیہ

مرثیہ کیا ہے؟

کہا جاتا ہے۔یہ عربی لفظ رثا سے نکلا ہے۔یہ ایک اہم صنفِ شاعری ہے۔  DIRGE ELEGYمرثیہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ جسے انگریزی میں

رثا سے مراد مرنے والےکی تعریف و توصیف بیان کرنا کے ہیں۔گویا مرثیہ ایک ایسی صنفِ شاعری ہے جس میں کسی مرنے والے کی تعریف اس حسرت اور خوبصورتی کے ساتھ کی جاتی ہے کہ غم کا انداز پیدا ہو جاتا ہے۔اس کا دوسرا نام تعزیتی نظم بھی ہے۔اس میں مرنے والے کی خوبیوں کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔

مرثیہ لکھنوی تہذیب کے عروج کے زمانے کی ایک صنف ہے۔اور اسی دور کے شاعر مرزا دبیر اور میر انیس عظیم مرثیہ نگار تصور کیے جاتے ہیں۔ہیت کے اعتبار سےآغاز میں مرثیہ کی کوئی خاص شکل متعین نہ تھی۔اس کو کبھی غزل کی صورت لکھا جاتا کبھی مثلث، کبھی مسدس اور کبھی ترکیب بندھ کی صورت لکھا جاتا۔ مگر بعد میں اسے مسدس کی صورت رائج کر دیا گیا۔اور باقی تمام ہیئتیں متروک کر دی گئیں۔

مرثیہ کی انواع؛

مرثیہ کئی طرح کا ہوتا ہے۔ مثلاً وہ مرثیہ جو کسی شخص خصوصاً قومی رہنما وغیرہ کی وفات پر اظہارِ غم کے طور پر لکھا جاتا ہے۔ جیسے یومِ اقبال یا یومِ قائد کے موقع پر ان کے مظلق لکھی گئی نظم مرثیہ ہے۔اس ظرح کے مرثیے رسمی کہلاتے ہیں۔بعض اوقات کسی عزیز ہستی پر پرثیہ لکھا جاتا ہے شاعر کی ذات کے بے حد قریب ہوتا ہے۔مگر ایسا مرثیہ دل کی گہرائیوں سے لکھا گیا ہونا چاہیئے ورنہ اس کی حیثیت بھی رسمی مرثیے کی سی ہوتی ہے۔

ایک معیاری مرثیے کے لیے ضروری ہوت ہے کہ اس کا ایک ہی موضوع ہو اس میں تنوع ہونا ضروری ہے اگر ایسا نہ ہوا تو یہ صنف اپنی یکسانیت اور دلکشی کھو بیٹھتی ہے۔اس کی زبان میں موقع محل کا خیال ہونا بے حد ضروری ہوتا ہے۔مثال کے طور پر اگر واقعاتِ کربلا کا ذکر کرنا ہو تو اس میں ضیعف حوالوں سے اجتناب کیا جائے بصورتِ دیگر مرثیہ معیاری نہیں رہے گا۔

Copyright © 2016 - 2018 Explainry.com | All Rights Reserved