مجازِ مرسل اور اس کی اقسام

مجازِ مرسل کیا ہے؟

یہ علمِ بیان کی ایک اہم قسم ہے۔جب لفظ اپنے حقیقی معنوں کے بجائے مجازی معنوں میں اسطرح استعمال ہو کہ ان کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق نہ ہو بلکہ اس میں کوئی اور ہی تعلق پایا جائے اسے مجازِ مرسل کہتے ہیں۔استعارہ میں لفظ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال نہیں ہوتے لیکن حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق پایا جائے تو اسے مجاز مرسل کہتے ہیں۔ جیسے روٹی کا مسئلہ بہت اہم ہے۔اس میں ایک روٹی مراد نہیں بلکہ روزگار مراد ہےتشبیہ کےعلاوہ یہ تعلق کئی طرح سے ہو سکتا ہے۔مثلاً؛

غمِ ہستی کا اسدؔ کس سے ہو ،جز،مرگ،علاج

شمع ہر رنگ میں جلتی ہے صبح ہونے تک

مجاز مرسل کی اقسام؛

مجاز مرسل کی کل چھ اقسام ہیں جو زیادہ استعمال ہوتی ہیں جن میں یہ شامل ہیں۔

جزو بول کر کل مراد لینا؛

اس کی مثال ملاحظہ فرمائیں؛

سنگ پھینکے ہے مری قبر پہ گل کے بدلے

گالیاں دے ہے پسِ مرگ بھی قل کے بدلے

اسی طرح الحمد سورۃ فاتحہ کا نام ہے تو الحمد جزو ہو گا اور پوری سورۃ فاتحہ کے ساتھ دعائیں وغیرہ کل میں شمار کی جائیں گی۔اسی طرح اس نے کانوں میں انگلیاں رکھ لیں۔ انگلیاں نہیں رکھی بلکہ ایک کان میں ایک انگلی کی ایک پور رکھی ہے۔

کل بول کر جز مراد لینا؛

جو لفظ کل کے لیے وضع کیا گیا ہو اسے جزو کے معنی میں استعمال کرنا جیسے میں نے قلم بازار سے خریدا میں بازار سے نہیں بلکہ ایک دکان سے خریدا ہے۔ اس کی ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیں؛

اور بازار سے لے آئے ، اگر ٹوٹ گیا

ساغر جم سے مرا جامِ سفال اچھا ہے

سبب بول کر مسبب مراد لینا؛

سبب بول کر نتیجہ مراد لینا سے مراد یہ ہے جیسے دنیا میں جتنے بھی کام ہو رہے ہیں وہ کوئی نہ کوئی سبب کے باعث ہوتے ہیں مثلاً بادل خوب برسا یہاں بادل سبب اور برسات مسبب ہے ۔ ۔اس طرح

پانی تھا آگ ، گرمی روزِ حساب تھی

ماہی جو سیخِ موج تک آئی کباب تھی

مسبب بول کر سبب مراد لینا؛

چولہا جلتا ہے اس کی ایک قسم ہے۔ اور آگ جل رہی ہے آگ نتیجہ ہے کسی چیز کے جلنے کا تو آگ کسی ایندھن سے ہی جلے گی اور چولہا جل ریا ہے۔اس سے مراد چولہے میں ایندھن جل رہا ہے۔اشعار میں اس کی مثال یہ ہے۔

اس قدر کھایا تری فرقت میں غم

دل  ہمارا  زندگی  سے سیر  ہے

مظروف بول کر ظرف مراد لینا؛

سالن ڈھانپ دو ، شربت لے آو، اور میرے لیے پانی لاو ان میں سالن کا برتن، شربت کا برتن، اور پانی کا برتن مظروف بول کر ظرف مراد لیا ہے۔ اشعار میں اس کی مثال یہ ہے۔

یہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں

نہ وہ غزنوی میں تڑ پ رہی نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

ظرف بول کر مظروف مراد لینا؛

مثلاً فوارہ ابل رہا ہے۔ فوارہ سے مراد پانی ہے۔ فوارہ ظرف ہے اور پانی مظروف ہے۔اور میں نے پانی کے دو گلاس پیئے مظروف مائعات ہے۔ انکو پکڑا نہیں جا سکتا ۔ اشعار میں شاعر کا اندازِ تخیئل ملاحظہ فرمائیں؛

خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہا

دل  کا  فوارہ  اچھلتا  ہی  رہا

دیگر اقسام؛

مجازِ مرسل کی کچھ دیگر اقسام بھی ہیں جن میں ؛ آلہ بول کر وہ چیز مراد لینا جس سے وہ آلہ بنا ہو، ماضی کی حالت سے موجودہ حالت مراد لینا، مستقبل کو موجودہ حالت سے تعبیر کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

آلہ بول کر وہ چیز مراد لینا جس سے وہ آلہ بنا ہو؛

اس کی ایک خوبصورت مثال اشعار کے سانچے میں کچھ ہوں ہے؛

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ

ہندستان میں دھوم ہماری زباں کی ہے

یہاں پر زبان آلہ ہے۔ لیکن مراد بولی ہے جو منہ والی زبان سے بولی جاتی ہے۔

ماضی کی حالت سے موجودہ حالت مراد لینا؛

مثال ملاحظہ فرمائیں؛

الٰہی  کیا  کیا  تو  نے  عالم  میں  تلا طم  ہے

غضب کی ایک مشت ِ خاک زیرِ آسمان رکھ دی

مستقبل کو موجودہ حالت سے تعبیر کرنا؛

مثلاً زیرِ تربیت ڈاکٹر کو ڈاکٹر صاحب کہنا۔

بیزار ہیں سب  ایک بھی شفقت  نہیں کرتا

سچ ہے کوئی مردے سے محبت نہیں کرتا

یہ قول حضرت فاطمہ صغٰری کا ہے جو بیمار تھیں انہوں نے جود کو مردہ کہا۔

Copyright © 2016 - 2018 Explainry.com | All Rights Reserved