Kinds of Urdu Linguistics – لسانیات کی اقسام

لسانیات کی تعریف؟

لسانیات عربی کےلفظ لسان سے ماخوذ ہے۔ اس سے مراد زبان کا علم ہے۔ اصطلاح میں لسانیات علم کی وہ قسم ہے جو زبان کی بنیاد ۔ اصلیت۔ اور اسکی۔ماہیت۔ کا مطالعہ کرتی ہے۔ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور نے اس کی کچھ اس طرح تعریف کی ہے۔

لسانیات اس علم کو کہتے ہیں جس کے ذریعے سے زبان

کی ماہیت ۔ تشکیل۔ و ارتقا۔ زندگی اور موت کے متعلق

 آگاہی ہوتی ہے۔

لسانیات کی اقسام

لسانیات کی چار اہم اقسام یہ ہیں۔

ا۔ صوتیات             ب۔معنویات               ج۔نحویات               د۔ مارفینیت

لسانیات کی تحقیق کے حوالے سے دو طرح کی تجربہ گاہیں ہو سکتی ہیں ایک باقاعدہ تجربہ گاہ  دوسری کوئی بھی لسانی گروہ جہاں لوگوں کو بولتے ہوئے سنا جائے اور اس سنے ہوئے سے اخذ کیا جائے کہ آیا کسی علاقے ہیں لسانیات پر کیا تغیرات آئے ہیں۔

ا۔صوتیات

صوتیات لفظ صوت سے نکلا ہے اور صوت سے مراد آواز کے ہیں۔ صوتیات لسانیات کی ایک ایسی صنف ہے جس میں آواز سے متعلق  مطالعہ کیا جاتا ہے۔ صوتیات بولنے کی چیز ہے اور اسکا تعلق وترانِ صوت سے ہے۔ اس میں مختلف علاقوں کی اصوات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔بعض علاقوں کے وترانِ صوت درست نہیں ہوتے اور ان میں غلطی قدرتی طور پر وقوع پذیر ہو جاتی ہے۔ جیسے انڈیا اور انگلینڈ کے لوگوں کے وترانِ صوت پاکستان کے الفاظ کی ادائیگی سے قاصر ہیں ۔اگر یہ لوگ پاکستانی الفاظ کا استعمال کریں کے تو پھر تلفظ میں غلطی کریں گے۔جو کہ سننے میں بھلا نہیں لگے گا۔ہر صوتی کرشمہ زبان کے صوتی نظام کا پابند ہوتا ہے۔ ہر شخص کا اعضائے  صوت بچپن ہی سے ایک مخصوص زبان کی آوازوں ۔ان کے تال میل۔ تالیف و ترکیب کی صورتوں کے عادی ہو جاتے ہیں ماہرین ِ لسانیات نے صرفی۔ نحوی۔ اور معنویات کی تبدیلیوں کے مقابلے پر صوتی تغیرات  کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔کیونکہ یہ زیادہ واضح ہوتے ہیں اور ان کی جانچ پڑتال زیادہ صحت کے ساتھ ہو سکتی ہے۔یہ تغیرات عموماً زیادہ باقاعدگی سے ملتے ہیں۔

نامیاتی یا تعمیری تبدیلی

صوتی تبدیلی کی وہ نوعیت جو کسی زبان کے سرمایہ کلمات یا اس کے معقول حصے میں باقاعدگی سے ملتی ہے۔ نامیاتی یاتعمیری تبدیلی کہلاتی ہے۔ مثلاً

دخیل الفاظ جو پراکرت کی وجہ سے ہند آریائی میں آئے اور جن کی اختتامیہ آواز۔ کی ۔کے  بدل کر الف ہو جاتی ہے جیسے۔کیٹک سے کیڑا۔ بھیک سے بھکشا ۔ جبہا سے جیبھ وغیرہ

مشروط اور غیر مشروط صورت

کلمے کے کسی آواز کی تبدیلی آس پاس کی آوازوں کے زیرِ اثر بھی ہو سکتی ہے اور ان سے بے تعلق بھی ۔ پہلی صورت مشروط اور دوسری غیر مشروط صورت کہلاتی ہے۔

اعضائے اصوات

انسانی آواز کی پیدائش میں مندرجہ ذیل اعضا مل کر صوتی آلات کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ پھیپھڑے۔ حلقوم۔ بلعوم۔ حنضرہ۔ اعصابِ نطقی۔ منہ۔ناک۔ تالو۔ زبان۔ دانت۔ اور ہونٹ وغیرہ۔پھیپھڑے دھونکی کا کام کرتے ہیں اور یہ ہوا کے بہاو کو مطلوبہ دباو  یا رفتار سے حلق میں گزرتے ہیں اور ایک تسلسل کو ضرورت کے مطابق قائم رکھتے ہیں۔ آواز کا اصل سرچشمہ حلق ہے۔ جس میں واقع اعصابی ریشے اس ہوا کے دباو سے متاثر ہو کر تھرتھرانے لگتے ہیں جس سے اس ہوا کے دباو سے ایک ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے۔اور لفظ اصوات کی صورت سامنے آتے ہیں۔

ب۔ معنویات

معنویات کا دوسرا نام لغویات ہے ۔معنویات لفظ معنی سے ہے۔ جس سے مراد مفہوم جاننے کا ہے۔ لسانی تغیرات میں معنویات کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔ لغوی  معنوی تبدیلی کے ذیل میں کلمے کا حوالہ ایک منظم اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔مختلف زبانوں میں الفاظ کا کثرت سے اشتراک یا ان کے درمیان  گہری مماثلت اور مطابقت  ان میں باہمی لسانی رشتوں کی غمازی کرتی ہیں۔ لیکن الفاظ کا یہی گہرا اشتراک کسی سابق دور میں ان زبانوں کی حامل اقوام کے آباو اجداد کے درمیان گہرے تہذیبی رشتےیا وسیع تجارتی تعلقات کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے،۔ فارسی اور ہنسپانوی میں عربی اور اردو برصغیر کے شمالی حصے کی دیگر زبانوں میں پرتگیزی عناصر کی موجودگی واضع ہے۔

مثالیں۔

وسطی انگریزی کا ماس بدل کر ماوس ہو گیا مگر مدلول وہی رہا۔ سنسکرت میں وردل نے جدید آریائی میں بادل  کا بہروپ بھرا مگر معنی میں کوئی فرق نہ آیا۔

زبانوں کی معنویاتی تبدیلیوں کے سلسلے میں کلموں کے متروک ہوتے رہنے اور نئے کلموں کے جنم لیتے رہنے کے عمل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہر زبان  کے ارتقائی سفر میں کچھ کلموں کا چلن کم ہوتے ہوتے ختم ہو جاتے ہیں ۔جیسےمیزان عربی میں ترازو کو کہتے ہیں لیکن اردو مین جمع کے معنی  میں مستعمل ہے۔ عمارت کو آبادی کے بجائے بڑے مکان کے معنی دیے۔ غریب  لفظ مسافر کے لیے تھا مگر اس کا مفہوم بلکل ہی بدل کیا ہے۔

ج۔ نحویات

نحویات لفظ نحو سے ہے اس میں معنی و مفہوم کے لحاظ سے کلموں اور ان کی تبدیلیوں ۔ جملوں کی ماہیت۔ ان جملوں میں کلموں کی ترتیب۔ مطابقت اور معنوی رشتوں کو موضوع ِ بحث بناتے ہیں۔کلمے اور کلموں کے گروہ جن سے مکمل ۔ بامعنی کلام ترتیب پاتا ہے یعنی مفرد اور مرکب جملے یہ حصہ علمِ تحو کہلاتا ہے۔اس میں جملوں کی ساخت کلموں کی ترتیب  مطابقت  اور ان کے باہمی ر شتوں پر منحصر ہوتی ہے ۔ گویا یہ جملے کے تین اصول بیان کرتے ہیں کلماتی ترتیب مطابقت اور نحوی رشتے جملے کا جزو ترکیبی بنبے والا فقرہ کبھی کبھی خود بھی ایک مکمل جملہ ہو جاتا ہے۔

بامعنی کلام یا جملہ ہی پوری بات یا خیال کے ابلاغ  کا حق ادا کرتا اور زبان کی غرض و غائیت پوری کرتا ہے جملہ ہی کلام کا وہ بڑے  سے بڑا ڈھانچہ ہے جس میں قواعد ی عناصر اور ان کے زمروں کے باہمی تعلق کی بھرپور نمائندگی ہوتی ہے اس بدولت کلمے کے وہ سیاق و سباق  سامنے آتے ہیں جن سے معنی کا تعین کیا جا سکتا ہے ۔ اس کو قواعدی تجزیے کی سب سے بڑی اور ساختیاتی توضیح کی اہم ترین سطح قرار دے سکتے ہیں۔

د۔ مارفینیات

یہ علم گرائمر کی گردان سے تعلق رکھتا ہے۔ لسانیات کی رو سے گرامر بنیادی طور پر ناقابلِ تقسیم معنوی اکائی یا اقل ترین معنوی اکائی سے بحث کرتی ہے۔اس اکائی کو مارفیم کے نام سے تعبیر کیا جایا ہے۔اردو میں اس کے لیے معنیہ کی اصلاح بھی استعمال کی گئی ہے۔ مارفیم کی دو ہیتیں ہیں۔بالذات اور تابع

بالذات ہیت خود ایک کلمہ ہے مگر پھر بھی مزید کلمے تشکیل کر سکتی ہے۔ تابع ہیت کسی نہ کسی اور کم از کم ایک مارفیم کے ساتھ یہ استعمال ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ گرامر ایک ایسا نظام ہے جو معنیوں اور ان کے باہمی رشتوں پر تعمیر کیا جاتا ہے۔بالذات ہیت خود ایک کلمہ تشکیل کر سکتی ہے مگر تابع کسی نہ کسی اور مارفیم سے مل کر کلمہ تشکیل دیتی ہے۔مختلف زبانوں میں معنیوں ۔کلموں اور فقروں کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔

مثالیں۔

اردو میں ایسا مزکر اسم جو الف یا ہ پر ختم نہ ہوتا ہو متیدا کی حیثیت  یا غیر فاعل کی حالت میں ہو تو واحد جمع دونوں صیغوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

مرد آیا          چار مرد آئے          اچھے مرد آئے

بعض زبانوں میں غیر حقیقی جنس کا وجود نہیں جیسے جرمنی میں مزکر مونث اور لاجنس وغیرہ

Copyright © 2016 - 2018 Explainry.com | All Rights Reserved