Urdu Linguistics – لسانیات

زبان کیا ہے

ہم رات دن باتوں میں مصروف رہتے ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اتنی باتیں کرنا ہم نے کہاں سے سیکھی اور ان باتوں کے لیے یہ بے شمار الفاظ کہاں سے آئے۔ایک وقت ایسا تھا جب کتاب کا کوئی تصور نہ تھا بلکہ فنِ تحریر بھی ابھی عالمِ وجود میں نہ آیاتھا انسان کے پاس اپنے نطقی اظہار کے لیے نہ تو کوئی ذخیرہِ الفاظ موجود تھا اور نہ ہی ابلاغ کا کوئی اور راستہ۔۔۔۔لوگ اپنے اظہارِخیال کے لیے اشاروں کا استعمال کرتے یا پھر معمولی یا۔ہے۔ہی۔ہو سے اپنے مقصد اور خیالات و جذبات کوبہم پہنچاتے مرورِایام کے ساتھ لسانیات نے ترقی کی راہ پکڑی ۔۔ زبان کی ابتداء کا مسئلہ ہمیشہ سے ہی انسان کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے اسی دلچسپی کے نتیجے میں انسان نے ’زبان‘ کو تخلیق کیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں ان گنت زبانیں بولی جا تی ہیں اور انسان کا سب سے زیادہ قابلِ تعریف کارنامہ ’زبان ‘ہی تصور کی جاتی ہے۔ارتقاء میں زبان کو ’مافوق الفطرت قوت،منروا، سرسوتی، ایتھنا، اورثوث جیسے لقب ملے لیکن دنیا کی قدیم ترین کتاب’’رگ وید‘‘ میں رقم کردہ ایک نغمیہ حمد کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حمد موجودہ دور کے لسانیاتی نظریات سے کافی حد تک قریب ہے اس نظم نے اُس عہد میں مروجہ الفاظ کی چھان بین اور ترتیب تدوین میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ حصہ لیا ہے اور یہ انکشاف بھی ملتا ہے کہ انسان اس دور میں زبان کو اپنی توہم پرست فطرت کی بنا پر قدرت کا کرشمہ شمار کرنے لگا

لسانیات کیا ہے

زبان کی اگلی کڑی لسانیات ہے ۔ لسانیات عربی کے لفظ لسان سے ماخوذ ہے اسکا مطلب زبان کا علم‘اصطلاح میں لسانیات علم کی وہ قسم ہے جو زبان کی بنیاد‘ اصلیت اور اسکی ماہیت کا مطالعہ کرتی ہے اسکی پیدائش‘ دائرہ کار اور اس میں ردو بدل جیسے مسائل کو زیرِبحث لاتی ہے لسانیات کہلاتی ہے ڈاکٹر حامد اللہ ندوی کچھ یوں رقم طراز ہیں

زبان کے مختلف پہلوؤں کا فنی مطالعہ لسانیات کہلاتا ہے زبان کا یہ فنی مطالعہ دوزمانی بھی
ہوسکتا ہے اور ایک زمانی بھی‘ دوزمانی مطالعے کی حیثیت تاریخی ہوتی ہے جس میں کسی
زبان کی عہد بہ عہد ترقی یا مختلف ادوار میں اسکی نشوونما کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور ایک زمانی
مطالعے کی حیثیت توضیحی ہوتی ہے جس میں ایک خاص وقت یا خاص جگہ میں ایک زبان
جس طرح بولی جاتی ہے اسکا مطالعہ کیا جاتا ہے

لسانیات کی اہمیت

لسانیات ایک سائنس کا درجہ رکھتی ہے اس میں زبان کا مشاہدہ کیا جاتا ہے جو کچھ انسان بولتا ہے اسکا مطالعہ مقصود ہوتا ہے اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی کہ انسان کو کیسے بولنا چاہئیے لسانیات میں عارضی نتائج کی تصدیق کی جاتی ہے آج زبان ‘انسان کی انفرادی اور سماجی زندگی کی ایسی ضرورت بن چُکی ہے کہ اس کے بغیر انسان کا تصور نہیں کیا جا سکتا یہاں تک کہ تمام علوم زبان ہی کے سہارے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔مولانا محمد حسین آزاد نے زبان کی کیا خوبصورت محاکاتی تعریف بیان کی ہے

وہ اظہار کا وسیلہ کہ متواتر آوازاں کے سلسلے میں ظاہر ہوتا ہے جنہیں تقریر یا سلسلہِ الفاظ
یا بیان یا عبارت کہتے ہیں اسی مضمون کو شاعرانہ لطیفے میں ادا کرتا ہوں کہ زبان(خواہ بیان)
ہوائی سواریاں ہیں جن میں ہمارے خیالات سوار ہو کر دل سے نکلتے ہیں اور کانوں کے رستے
اوروں کے دماغوں میں پہنچتے ہیں۔۔۔ تقریر ہمارے خیالات کی زبانی تصویر ہے
جو آوازکے قلم نے ہوا پر کھینچی ہے

لسانیات کی اقسام کے لیے یہاں کلک کریں

لسانیات کی شاخیں

محمد حسین آزاد نے کس قدر خوبصورتی کے ساتھ علمِ لسانیات کی ہر شاخ پر وار کیا ہے علمِ لسانیات میں صوتیات‘ لغویات‘نحویات اور مارفینیات خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ صوتیات لسانیات کی ایسی قسم ہے جس میں آواز سے متعلق بحث کی جاتی ہے اور اعضائے صوتی یعنی پھپٹڑے‘ حلقوم‘ بلعوم‘ حنجرہ‘ اعصابِ نطقی‘ منہ‘ ناک‘ تالو‘ زبان‘ دانت‘ اور ہونٹ آواز کے اصل سرچشمے تصور کیے جاتے ہیں لغویات یا معنویات سے مراد مطالب اور مفاہیم جاننے کا ہے اس میں الفاظ کو انکے معانی کی مناسبت سے پرکھا جاتا ہے اس میں مرکبِ مترادفی‘ مرکبِ عطفی‘ مرکبِ نحوی‘ مرکبِ فاعلی یا مشتق مرکبات سے لفظوں پر بحث کی جاتی ہے۔ دوسری طرف علمِ نحویات میں کلموں اور ان کی تبدیلیوں‘ جملوں کی ماہیت‘ ان جملوں میں کلموں کی ترتیب‘ مطابقت اور معنوی رشتوں کو موضوعِ بحث بنایا جاتا ہے جبکہ علمِ مارفینیات علمِ گرائمر کی گردان سے متعلق ہے اردو میں اس کے لیے ’’ معنیہ‘‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاری ہے۔ ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور کے بقول

لسانیات اس علم کو کہتے ہیں جس کے ذریئے سے زبان کی ماہیت‘ تشکیل و ارتقاء‘
زندگی اور موت کے متعلق آگاہی ہوتی ہے

                                                                                                         زبان اور تغیرات

وقت کے ساتھ لسانیات میں رونما ہونے والے تغیرات کو بھی لسانیات میں زیرِبحث بنایا جاتا ہے جیسے بولیوں کے باہمی فرق و امتیاز کو تو ہم آسانی سے محسوس کر لیتے ہیں لیکن ہماری بولی یا زبانوں میں جو تغیرات ہوتے رہے ہیں انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں عمعوماً صوتی میڈیم پر غور نہیں کی جاتی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم وہ ہی زبان بول رہے ہیں جو ہمارے اجداد بولتے تھے مگر ایسا نہیں ہے زبان ایک مستقل حیثیت تو رکھتی ہے مگر اس میں ہونے والے تصرفات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتاوقت کے ساتھ زبان بھی بدلتی ہے اور لسانیاتی اختلافات وسیع ہوتے جاتے ہیں جیسے الفریڈ کے دور کی انگریزی شیکسپئر کے زمانے تک ۷ سو سال میں خاصی بدل چُکی تھی آج کا انگریز تو اس زبان کو اجنبی سمجھتا ہے۔اردو زبان کی عمر کوئی اتنی لمبی نہیں مگر اس میں بھی صوتی‘صرفی‘اور معنویاتی تبدیلیاں رونما ہوئیں ہیں باغ و بہار کی زبان کو آج کی زبان میں پرکھا جائے تو بہت سے ایسے الفاظ ملتے ہیں جو اب متروک ہو چکے ہیں غالب کے استعمال کردہ بہت سے الفاظ جدید اردو ادب کا حصہ نہیں بن سکتے جیسے: پوچھو ہو‘ آوے ہے‘ اودھر‘ گانو‘ پانو وغیرہ وغیرہ۔

Copyright © 2016 - 2018 Explainry.com | All Rights Reserved