قصیدہ کی تعریف

قصیدہ سے کیا مراد ہے؟

کہتے ہیں۔قصیدہ شعری صنف کے اعتبار سےعربوں کی ایجاد ہے۔ Eulogy قصیدہ عربی زبان کا لفظ ہے۔اس کو انگریزی میں

قصیدہ لفظ قصد سے ہےجس کے معنی ارادہ کرنے کے ہیں۔بعض روایات کے مطابق اس کے معنی مغز کے بھی ہیں۔ مراد یہ ہے کہ قصیدہ تمام اصنافِ شعری میں وہی حیثت رکھتا ہے جو انسانی جسم میں سر یا مغز کی ہے۔ اس کوفارسی میں چامہ کہتے ہیں۔ یوں تو قصیدہ کے اصطلاحی معنی کسی زندہ شخصیت کی تعریف کرنا کے ہیں۔اسکو جنگی ادوار میں سرداروں اور قبائلی حکام کی تعریف کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔عرب کی فتوحات کی بدولت یہ صنفِ شاعری ایران میں آئی اور پھر یہاں سے برصغیر میں منتقل ہوتی چلی گئی۔

قصیدہ دراصل درباری طرز کی شاعری ہے جس میں شان وشوکت، جاہ و جلال، جوش اور ولولے کو امتیازی حیثت حاصل ہوتی ہے۔ شاہی درباروں میں قصیدے کو ہر دلعزیزی حاصل ہوئی مگر مغلیہ دور کے زوال کے ساتھ ہی اس صنفِ شاعری کا رنگ کچھ پھیکا پڑنا شروع ہو گیا۔اور یہ صنف حمد و نعت میں زم ہوتی چلی گئی۔

ہیت کے اعتبار سے قصیدہ غزل سے ملتی جلتی صنف ہے۔اس کی بحر شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی ہوتی ہے۔اس کا آغاز مطلع سے ہوتا ہے اور ردیف لازم نہیں ہوتا۔اس کے کم از کم اشعار کی تعداد پانچ ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ اشعار کی تعداد مقرر نہیں۔اردو اور فارسی زبان میں کئی کئی سو اشعار کے قصیدے ملتے ہیں۔قصیدہ کے پانچ اہم اجزاء یہ ہیں؛

تشبیب؛

تشبیب کے معنی شباب کے ہیں۔ یہ قصیدہ کا ابتدائی حصہ ہے۔ اس میں صرف نفسِ مضمون باندھاجاتا ہے۔

گریز؛

یہ قصیدے کا دوسرا جز ہے جس میں لکھاری اصل موضوع کی طرف توجہ دلاتا ہے۔قصیدہ اور گریز میں ربط ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ اس کی بدولت ہی ایک قصیدہ شاندار تصور کیا جاتا ہے۔

مدح؛

اس حصہ میں قصیدہ گو اس شخصیت کی تعریف بیان کرتا ہےجس پر قصیدہ لکھا جا رہا ہوتا ہے۔اس کی شجاعت، بہادری کے پل باندھے جاتے ہیں اور بعد میں اس کے ساز و سامان کی بھی تعریف کی جاتی ہے۔

طلب؛

اس جزو میں شاعر ممدوع سے اپنی بیان کی گئی مداح کا صلہ طلب کرتا ہے۔

دعا؛

یہ قصیدے کا آخری جزو ہے اس میں شاعر ممدوع کے لیے دعا طلب کرتا ہے۔

Copyright © 2016 - 2018 Explainry.com | All Rights Reserved