ilm e Arooz – علمِ عروض

پس منظر

علمِ عروض ایک قدیم علم ہے۔ایک تحقیق کے مطابق کیا جاتا ہے کہ خلیل بن احمد فراہیدی نے اس علم کو ایجا د کیا۔ا یہ بصرہ کا رہنے والا تھااور سو ہجری میں اس کی پیدائش ہوئی ۔اس نے یہ علم مکہ میں ایجاد کیا اور اسی مناسبت سے اس علم کا نام بھی عروض یے کیونکہ مکہ کے پرانے ناموں میں ایک نام عروض بھی تھا۔ ناقدین کےمطابق خلیل بن احمد فراہیدی نے یہ دیا کی تھی کہ اسے ایسا علم عطاہو جو پہلے کسی کو عطا نہ کیا گیا ہو۔اس علم کے ایجاد ہونے کے متعلق مختلف ناقدین نے الگ رائے دی ہے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ یہ علم جب ایجاد ہوا جب یہ آدمی دھوبی گھاٹ سے گزر رہا تھا۔کچھ کے مطابق لویا کوٹنے والوں کی بستی کے قریب سے گزرتے ہوئے اس علم کا خیال فرراہیدی کے دماغ میں آیا۔بعض کا کہنا ہے کہ لوہار کی بھٹی کے قریب سے گزرتے ہوئےاس آدمی نے یہ علم ایجاد  کر دیا۔اوپر بیان کردہ مثالوں میں آوازوں کی تکرار کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تویہ بات ثابت یوتی ہے کہ اُس نے آوازوں کی اوقات سے یہ علم بنایا۔

عروض کیا ہے

شاعری کی بنیاد علم عروض پر ہے۔شعر کی بہت سی تعریفوں میں سے ایک تعریف یہ ہے کہ شعر کلامِ موزوں کو کہتے ہیں۔موزوں کا مادہ وزن ہے ۔ یعنی ایسا کلام جس میں وزن ہو۔اب شعر میں اوزان کا تعین کیسے کیا جائے؟ یہ کام علمِ عروض سر انجام دیتا ہے۔شعر کےابتدائی اور وسطی حصے کو بھی عروض کیتے ہیں۔اس کے معنی شاعری کا حساب ۔سائنس۔ اور موسیقی ہے

اصولِ سہ گانہ

عروض میں مختلف آوازوں کی تکرار سے ارکان بنتے ہیں ۔ اور ارکان کی تکرار سے ہی عروض بنتا ہے۔اصولِ سہ گانہ سے مراد الفاظ کے تین گروہ ہیں جو کے عروض میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔جو کہ مندرجہ ذیل ہیں؛

ا۔سبب

ب۔وتد

ج۔فاسلہ

شاعری میں ان تین گروہ سے آگے جانے کی ضرورت  نہیں پڑتی ۔ اور بعض نے تو اس میں فاصلے کو بھی شامل نہیں کیا اور کیا ہے کہ فاصلہ بھی سبب اور وتد کی ملاوٹ سے بنتا ہے۔

سبب

سبب کے معنی رسی کے ہیں ۔ اس کی آگے مزید دو اقسام ہیں جن میں سبب خفیف اور سبب ثقیل شامل ہیں سبب خفیف ایسا دو حرفی لفظ ہوتا ہے جس کا پہلا حرف متحرک اور دوسرا ساکت ہوتا ہے۔جیسے تم۔ہم۔در۔دس۔وہ اس کی مثالیں ہیں۔اور ایسا لفظ جس کے دونوں لفظ متحرک  ہوں مگر ایسا کوئی حرف شاعری میں استعمال نہیں ہوتا کیونکہ یہ اصول ہے کہ تمام حروف کا اختتام ساکت ہوتا ہے۔ مگر  الفاظ کو تراکیب  کی صورت میں ساکت کیا جا سکتا ہے۔ جیسے دل اصل میں خفیف ہے مگر اس کو اگر ترکیب کی صورت لکھیں تو دلِ ناداں لکھ کر بنایا جائے گا۔تو پھر یہ سبب ثقیل کہلائے گا۔

وتد

وتد علمِ عروض کی روح سے تین حرفی لفظ کہلاتا ہے۔اس کے معنی میخ۔کیل کے ہیں۔ اس کی بھی دو صورتیں ہیں جن میں وتد مجموع اور وتد مفروق شامل ہیں۔وتد مجموع ایسا تین حرفی لفظ ہے جس کے پہلے دو حروف متحرک ہوں مگر آخری حرف ساکت ہو۔ اسکو وتد مجموع کہا جاتا ہے اس میں صنف۔ ہنر۔وتد۔ نظر۔ طلب اور صبا شامل ہیں۔اسی طرح وتد مفروق سے مراد ایسے حروف ہیں جس میں صرف پہلاحرف متحرک ہوتا ہے جبکہ دوسرا حرف ساکت ہوتا ہے اس کی مثالوں میں علم۔ فکر۔ ذکر۔ اور رزق شامل ہیں۔

Copyright © 2016 - 2018 Explainry.com | All Rights Reserved