طنز و مزاح اور اس کی اقسام

طنز اور مزاح اردو ادب میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کی بدولت معاشرے کے بگاڑ کوخوش اسلوبی کے ساتھ سلجھایا جاتا ہے۔طنزاور مزاح دو ایسے نشتر ہیں جو کسی انسان پر وار تو کرتے ہیں مگر اس وار سے کوئی تیکھا زخم نہیں لگتا۔طنز اور مزاح دو الفاظ پر مشتعمل ایک ترکیب سے مگر ان دونوں کے معنی بلکل مختلف ہیں۔مگر پھر بھی انکا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

طنز اور مزاح کی تعریف؛

طنز کے معنی ہیں رمزاور طعنہ کے ساتھ بات کرنا جبکہ مزاح سے مراد ظرافت اور مذاق کے ہیں۔مزاح کسی خامی ،بے تکے پن پر خوش دلی کے ساتھ ہسنا ہے۔اس میں تلخی غم اور غصے کا دخل نہیں ہوتا ۔اس کے برعکس طنز کا مقصد اصلاح ہوتا ہے اور اس میں معاشرے کی کسی برائی کو مزید برا بنا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ لوگ اس سے نفرت کریں۔

طنز و مزاح کی اقسام؛

اس میں کوئی شک نہیں کہ مزاح پیدا کرنے کے لیے ذہانت ضروری ہوتی ہے۔ مگرجب تک کسی کو انکی اقسام کا علم نہ ہو تو پھر ذہانت بھی کسی کام نہیں آتی۔ اس کی اقسام ایک طرح سے مزاح پیدا کرنے کے آلے ہیں۔اس کی بے شمار اقسام درج ذیل ہیں۔

ا۔موازنہ و تضاد

ب۔ضلع جگت

ج۔پھبتی

د۔ تحریف

ہ۔ استہزا

و۔ تعریض

ز۔تخریب و نشتریت

ح۔ہجو

ط۔رمز

ی۔ شوخی

ک۔ فارس

ل۔ تقلیبِ خندہ آور

م۔مطائبات

ن۔ ہزل پن،عامیانہ پن، پھکڑ پن

س۔گالی گلوچ

ع۔ٹھٹول مزاق

ف۔عریانی و فحاشی

ص۔مبالغہ آرائی

ق۔بذلہ

ر۔معاصرانہ نوک جھونک

ش۔لعن طعن

ت۔مسخرہ پن

خ۔تنگ نظری

ث۔ابتذال

خ۔سٹھنی

ذ۔کارٹون

ض۔زبان و بیان کی بازی گری/لفظی شعبدہ بازی

اس قسم کی مزید ذیلی اقسام بھی ہیں۔اس کی بدولت اعلیٰ پائے کا مزاح پیدا کیا جاتا ہے اقسام ملاحظہ فرماہیں؛

تکرارِ لفظی، قول محال،رعائیتِ لفظی۔تشبیہات،استعارات، مضحکہ خیز املاءسے مزاح کی تخلیق،خود پر طنز کر کے مزاح پیدا کرنا،مزاحیہ صورتِ حال یا صورتِ واقعہ،مزاحیہ کردار، اشعار کا بے تُکا استعمال،لفظی الٹ پھیر اور جدت طرازی وغیرہ شامل ہیں۔

Copyright © 2016 - 2018 Explainry.com | All Rights Reserved