ردیف اور قافیہ میں فرق

ردیف اور قافیہ دراصل شعری اصطلاحات کے اجزاء ہیں۔ ان کے بغیرصنفِ نظم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔جس طرح شاعری میں بحور اور زمیں خاص اہمیت کی حامل ہیں بالکل اسی طرح ردیف اور قافیہ اصنافِ نظم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں۔ ان کے بغیر نظم ،نظم نہیں لگتی اوران کے بغیر اصنافِ نظم میں ترنم بھی پیدا نہیں ہوتا۔

قافیہ لفظ قفو سے ہے جس کے معنی پیروی کرنے کےاور پیچھے آنے والے کے ہیں۔اردو ادب میں قافیہ ایسے الفاظ کو کہا جاتا ہے جو اشعار میں الفاظ کے ساتھ غیر مسلسل طورپر آخر میں بار بار آتے ہیں۔یہ الفاظ بعض وقت غیر ضروری معلوم ہوتے ہیں مگر ہٹا دیئے جانے پر بھی خلا پیدا کر جاتے ہیں۔اس لیے ترنم اور تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے قافیہ کا استعمال لازم و ملزوم تصور کیا جاتا یے۔اس کی ایک خوبصورت مثال ملاحظہ فرمائیں؛

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس درد کی دوا کیا ہے

مندرجہ بالا شعر میں ۔ہوا۔ اور ۔دوا۔ قوافی ہیں۔

ردیف کےمعنی گھڑ سوار کے پیچھے بیٹھنے والے کے ہیں۔ شعری اصطلاح میں ردیف سے مراد قافیہ کے بعد آنے والے وہ الفاظ ہیں جو مکرر آتے ہوں۔ اور یکساں بھی ہوں مگر ردیف پر مصرعے میں آئے یہ بھی لازم نہیں ہوتا۔ یہ بعض وقت غزل کے مصرعہِ ثانی میں تکرار سے بھی آتا ہے۔اس کی ایک اور تعریف یوں بھی کی جاتی ہے کہ۔ قافیہ کے بعد جو الفاظ مسلسل تکرار سے آئیں ردیف کہلاتا ہے۔ ایک عمدہ مثال ملاحظہ فرمائیں؛

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا

کاغذی  کے  پیرہین   ہر پیکرِ  تصویر کا

اس شعر میں دونوں مصرعوں میں موجود ۔ کا۔ ردیف کہلاتا ہے۔

Copyright © 2016 - 2018 Explainry.com | All Rights Reserved