Haroof e Abjad – حروفِ ابجد

پس منظر

ناقدین کے مطابق ابا جاد ایک بادشاہ کا نام تھا۔ جس کا مخفف ابجد ہے۔اور لفظ ابجد کی جڑ ابا جا ہی ہے۔ اور باقی سات کلمے اس بادشاہ کے بیٹوں کے ناموں سے منسوب کیے جاتے ہیں۔بعض محققین کا کہنا ہے کہ مرا مرا ایک شخص کا نام تھا ۔اور یہ ابجدی لکھنے کا طریقہ اسی کا ایجاد کردہ ہے۔ بجکہ بعض ناقدین کے مطابق حضرت ادریس نے ابجد  کو ترتیب دیکر آٹھ بامعنی کلمے بنائے اور ابجد ادریس اُس کا نام رکھ دیا گیا۔اس ابجد میں عربی کے تمام حروف آجاتے ہیں۔

حروفِ ابجد کیا ہیں؟

حروفِ ابجد عربی زبان کی مرہونِ منت ہیں۔اگر انکو الگ کر کے لکھا جائے تو یہ عربی کی الف۔ب۔تے ہیں۔ان حرفوں کے اعداد بھی مقرر کئے ہیں جنہیں حسابِ جمل کہتے ہیں۔بعض لوگ اپنے بچوں کے نام بھی اسی قاعدہ سے ایسے رکھے ہیں کہ جس سے پیدائش کا برس نکلتا ہے۔شان الحق حقی نے اس کی تعریف کچھ یہ کی ہے۔

ابجد حروفِ تہجی کی وہ ترتیب ہیں جو الف۔ ب۔د سے شروع ہوتی ہے۔

اور جس کے حروف کو ملا چند کلمات میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ابجد۔ ھوز

۔حطی۔ کلمن۔ سعفض۔قرشت۔ثخذ۔ ضظغ۔پہلے نو حروف بالترتیب اکائیوں پر۔

ی تا ص نو دہائیوں پر قتا ظ سیکڑوں پر مشتعمل اور غ ایک ہزار کا حامل

قرار دیا گیا ہے۔

حروفِ ابجد کی ترتیب

پروفیسر انور جمال نے انکو علم الاعداد کا نام دیا ہے۔اپنی کتاب ادبی اصطلاحات میں آٹھ گروپ کچھ اس طرح سے بنائے ہیں ملاحظہ فرمائیں

حروفِ ابجد

Copyright © 2016 - 2018 Explainry.com | All Rights Reserved