اصنافِ ادب

اصنافِ ادب کیا ہیں؟

اصنافِ ادب سے مراد اردو ادب کے وہ خاص پیرائے ہیں جو ادبی اور غیر ادبی تحریر کو الگ کرتے ہیں۔ اصناف کی اصل صنف ہے ۔ادب سے مراد بات کرنے کی عمدہ صلاحیت ہے۔دنیا کی دوسری بڑی زبانوں کی طرح اردو ادب بھی وسیع اصنافِ سخن پر مشتعمل ہے۔ اردو اصنافِ ادب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔جن میں شعری اصنافِ سخن ۔ نثری اصنافِ سخن اورغیر افسانوی ادب شامل ہیں۔

شعری اصناف

شعری اصناف سے مراد ایسی اصناف ہیں جن میں کلام کو شاعرانہ انداز سے بیا ن کیا جاتا ہو۔شعر کے لغوی معنی جاننا بوجھنا ہیں۔ شعری اصناف کو اصنافِ نظم بھی کیا جاتا ہے۔اس کی آگے درج ذیل اقسام ہیں۔(بہ لحاظِ موضوع) حمد۔نعت۔غزل۔ قصیدہ۔مرثیہ۔شہر آشوب۔واسوخت۔ریختی۔ پیروڈی۔گیت۔ بہ لحاظِ ہیت مثنوی۔رباعی۔قطعہ۔مسبط۔ ترکیب بند۔ترجیع بند۔مستزاد اور نظمِ جدید میں پابند نظم۔ معری نظم۔ آزاد نظم۔ سانیٹ شامل ہیں

نثری اصناف

نثری اصنا ف میں ایسی اصنافِ سخن شامل ہیں ۔ جس میں ادیب  یا مصنف اپنے خیالات کا اظہار ادبی تحریروں سے کرتا ہے۔ اس میں اس کی قدیم صنف داستان پھرناول۔ افسانہ اور ڈرامہ شامل ہیں۔ناول ایسی نثری صنف ہے جس میں کسی کی پوری زندگی کے متعلق درج کیا جاتا ہے اور اس کو ایک نشست میں پڑھا نہیں جا سکتا۔جبکہ افسانہ ناول سے مختصر ہوتا ہے اس میں زندگی کے کسی ایک پہلو کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ ڈرامہ کے معنی کر کے دکھانا کے ہیں۔اس میں پوری کہانی کو مکالمے کی صورت بیان کیا جاتا ہے۔اور الگ لگ سین کے ذریعے کہانی کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔

غیر افسانوی ادب

غیر افسانوی ادب سے مراد ایسا ادب ہے جس میں تخیلات کی دنیا  کے بجائے زندگی کی حقیقت کو پرکھا جاتا ہے۔اس طرز کی اصنافِ سخن میں مضمون۔ مقالہ۔ انشائیہ۔ سوانح عمری۔ آپ بیتی۔ خاکہ۔ مکتوب۔ تبصرہ۔ طنز و مزاح۔ سفر نامہ۔اور تراجم وغیرہ شامل ہیں۔

Copyright © 2016 - 2018 Explainry.com | All Rights Reserved