History of Urdu Language – اردو زبان تشکیل و ارتقا

زبان کیا ہے؟

زبان انسان کی ایک نایاب ایجاد ہے۔ زبان کے متعلق مختلف ناقدین نے رائے دی ہیں۔ زبان بامعنی آوازوں اور حروف وعلامات پر مبنی ہوتی ہے۔زبان وہ آوازیں یا  علامتیں ہیں جن کی وساطت سے انسان بصورتِ تقریر یا تحریر ان خیالات کا اظہار کرتا اور دوسروں سے بذریعہ سماع یا مطالعہ معلومات اخذ کرتا ہے۔ایسی لیے زبان کو تبادلہ خیالات اور اظہارخود ہی کا آلہ کہا جاتا ہے۔اردو ترقی زبان کا لفظ ہے۔ کیونکہ یہ زبان مختلف زبانوں کے امتزاج سے بنی ہے اس لیے اس کا مطلب لشکر کا ہے۔زبان ایک ہمہ گیر لفظ ہے اور یہاں ہم اپنے فکر خیالات اور احساسات کو ذریعہ بنانے کے لیے سامنے لاتے ہیں۔زبان کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔

اردو زبان کا ارتقا

جب آریائی ہندوستان میں آئے تو انہوں نے زیادہ تر سنسکرت کو رائج کیا۔ بولی زبان کی پہلی صورت ہے اور زبان ۔ایک مکمل حالت ہے۔ زبان کا جغرافیا وسیع ہوتا ہے ۔ آریا جب آئے تو انہوں نے کچھ بولیوں کی جانچ کی اور سنسکرت جیسی زبان میں تبدیل کیا سنسکرت کے معنی پاک ۔پاکیزہ یا مقدس کے ہیں۔پھر مسلم فرمارواوں کی یکے بعد دیگرے ہندستان میں آمد سے لوگوں مٰیں ایک رابطے کی زبان قائم ہوئی جسے ریختی۔ریختہ۔اردوِ معلی اور بعد ازاں اردو کیا جانے لگا۔ اس کے علاوہ اردو زبان کے قیام میں صوفیا اکرام نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ڈاکٹر شاکت سبزواری نے کہا ہے کہ اردو پالی زبان کا ماخذ ہے جبکہ عین فرید کوٹی نے اردو کو ہڑپہ سے ماخذ قرار دیا۔حافظ محمود شیرانی نے کیا کہ اردو زبان پیجابی سے نکلی ہے۔

محمد حسین آذاد کے مطابق

ولی دکنی اردو غزل کا شاہِ آدم تھا۔ ہمارے بہت سے شعرا نے فارسی کے

الفاظ استعمال کیے اور ایک غزل میں اردو اور فارسی کو اکھٹا کرنے کی

کوشیش کی ۔ فارسی غزل کا محبوب مرکز تھا۔

حروف کے مجموعہ سے لفظ بنتے ہیں۔ لفظوں کے مجموعہ سے عبادت بنتی ہے اور عبادت ہی کسی زبان کی تشکیل کا ذریعہ ہے۔اس لیے ازدو املا پر بھی بہت بحث دیکھنے کو ملتی ہے۔املا کے لفظی معنی رسی کھولنا یا رسی کو دراز کرنا کے ہیں۔اردو املا میں زبان کی تحریری  شکل کو رسم الخط کہتے ہیں۔جبکہ درست طور پر حروف کی اشکال کو ضبطِ تحریر میں لانے کا نام املا ہے۔ڈاکٹر فرمان فتح پوری کا کہنا ہے کہ۔

املا بابِ افعال سے عربی میں مصدر ہے۔اور عربی میں اس کا سہی املا

ہمزہ کے ساتھ ہوگا۔لیکن اردو میں املا کا لفظ ہمزہ کے بغیر لکھا جاتا ہے۔

املا کے لغوی معنی لکھنا۔ لکھوانا اور رسی دراز کروانا کے ہیں۔زبان کی

اصطلاح میں املا سے مراد کسی لفظ کو مقررہ قاعدہ کے ساتھ اس طرح

لکھنا ہے کی بولنے اور پڑھنے میں اسے سہی تلفظ کے ساتھ ادا کیا جا

سکے

اردو قواعد و املا آیا کہاں سے آیا؟

اردو کا رسم الخط فارسی سے آیا اور فارسی کا عربی سے ہے۔ تو یوں فارسی اور عربی کی روایت اردو میں بھی رائج ہو گئی۔ اور اردو کے حروف ِ تہجی بھی فارسی۔عربی اور ایرانی سے لیے گئے ہیں۔ڈاکٹر سید علی رضا نقوی نے کچھ یوں کہا ہے کہ۔

جہاں تک اردو املا کا تعلق ہے یہ بڑی حد تک عربی اور فارسی املا کے

اصولوں کے تابع ہے لیکن یہاں بھی دوسری زبانوں سے الفاظ اخذ کرتے

وقت اپنے ذاتی مزاج  اور طبیعت  کو ملحوظ رکھنے کے اصول کے مطابق

اردو نے فارسی اور عربی کے اصولِ املا سے کیہں کہیں گریز اور انحراف

بھی کیا ہے۔

زبانوں کی خاندانی گروہ بندی

خاندانی حوالے سے زبانوں کی گروہ بندی کچھ اس طرح سے کی گئی ہے

امریکی خطہ کی زبان

افریقی خطہ

ایشائی خطہ

زبانوں کا سامی خاندان

شمالی خطوں کی زبانیں

بورال زبانیں

التانی زبانیں

تنتی اور چینی زبانیں

 قبلہ دراوڑی خاندان کی زبانیں

ہند یورپی زبانیں

یونانی زبانیں

اطالوی خاندان

کیلٹک زبانیں

زبان کی ہند ایرانی شاخ

Copyright © 2016 - 2018 Explainry.com | All Rights Reserved